Salam, Please Login to visit this forum.
Latest topics
» Me Nadia here ....
Tue Mar 15, 2011 12:44 am by love4life97

» Me Nadia here ....
Tue Mar 15, 2011 12:43 am by love4life97

» *~*Blending Eye Shadow*~*
Mon Mar 14, 2011 10:36 am by Humpakistani

» iam new here
Mon Mar 14, 2011 10:28 am by Humpakistani

» UMEED-E-SEHAR
Sat Nov 13, 2010 10:08 pm by love4life97

» (¯`·._...Increase the speed of your internet connection 450% without any software..._)
Sat Nov 06, 2010 9:53 am by love4life97

»  Is it persuasive?
Wed Oct 13, 2010 7:30 am by CharlesLewis

» India dominate Sri Lanka on way to final
Sun Sep 26, 2010 3:28 pm by love4life97

» HaPPy BiRtHdAy SaMeEr :D
Thu Sep 16, 2010 11:32 am by love4life97

» HAPPY BIRTHDAY TO OUR DEAREST ANNIE
Fri Jun 18, 2010 4:10 am by love4life97

October 2017
MonTueWedThuFriSatSun
      1
2345678
9101112131415
16171819202122
23242526272829
3031     

Calendar Calendar

Top posters
love4life97 (4231)
 
Black Beauty (3122)
 
shezada (1294)
 
red eyes (767)
 
chandni (724)
 
Admin (368)
 
Masakali (275)
 
janu (139)
 
a_shy_spy (44)
 
Decent Boy (8)
 

Social bookmarking

Social bookmarking Digg  Social bookmarking Delicious  Social bookmarking Reddit  Social bookmarking Stumbleupon  Social bookmarking Slashdot  Social bookmarking Yahoo  Social bookmarking Google  Social bookmarking Blinklist  Social bookmarking Blogmarks  Social bookmarking Technorati  

Bookmark and share the address of MASTI FORUM on your social bookmarking website

Bookmark and share the address of on your social bookmarking website


ماں کے ساتھ نیکی کرنا

View previous topic View next topic Go down

ماں کے ساتھ نیکی کرنا

Post by chandni on Sat Mar 13, 2010 11:41 am

ماں کے ساتھ نیکی کرنا
عَنْ ذَکَرِیَّا بِنْ اِبْرَاھِیْمَ قَالَ کُنْتُ نَصْرَانِیًّا فَاَسْلَمْتُ وَحَجَجْتُ فَدَخَلْتُ عَلٰی اَبِیْ عَبْدِاللّٰہِ فَقُلْتُ اِنِّیْ کُنْتُ عَلَی النَّصْرَانِیَّةِ وَ اِنِّیْ اَسْلَمْتُ فَقَالَ وَ اَیُّ شَیْءٍ رَاِٴیْتَ فِیْ الْاِسْلااَامِ؟ قُلْتُ قَوْلَ اللّٰہِ عَزَّ وَ جَلَّ
" مَا کُنْتَ تَدْرِیْ مَا الْکِتٰبُ وَ لااَا الْاِیْمَانُ وَ ٰلکِنْ جَعَلْنہُاٰا نُوْرًا نَّہْدِیْ بِہ مَنْ نَّشَآءُ "
فَقَالَ لَقَدْْ ھَدَاکَ اللّٰہُ ثُمَّ قَالَ:
اللّٰھُمَّ اِھْدِہ ثَلااَاثًا
سَلْ عَمَّا شِئْتَ یَا بُنَیَّ
فَقُلْتُ اِنَّ اَبِیْ وَاُمِّیْ عَلَی النَّصْرَانِیَّةِ وَاَھْلَ بَیْتِیْ وَ اُمِّیْ مَکْفُوْفَةُ الْبَصْرِ فَاَکُوْنُ مَعَھُمْ وَاَکُلُ فِیْ آنِیَتِھِمْ
فَقَالَ یَاْکُلُوْنَ لَحْمَ الْخِنْزِیْرِ؟
فَقُلْتُ لااَا وَ لااَا یَمَسُّوْنَہُ
فَقَالَ لااَا بَآسَ فَانْظُرْ اُمَّکَ فَبَرَّھَا فَاِذَا مَاتَتْ فَلااَا تَکِلْھَا اِلٰی غَیْرِکَ کُنْ اَنْتَ الَّذِیْ تَقُوْمُ بِشَاْنِھَا وَلااَا تُخْبِرَنَّ اَحَدًا اَنَکَ اَتَیْتَنِیْ حَتّٰی تَاْتِیَنِیْ بِمِنٰی اِنْشَآءَ اللّٰہُ قَالَ فَاَتَیْنُہ بِمِنٰی وَالنَّاسُ حَوْلَہ کَاَنَّہ مُعَلِّمُ صِبْیَانٍ ھٰذَا یَسْاَلُہ وَ ھٰذَا یَسْاَلُہ فَلَمَّا قَدِمْتَ الْکُوْفَةَ الْطَفْتُ لِاُمِّیْ وَ کُنْتُ اُطْعِمُھَا وَ اَفْلِیْ ثَوْبَھَا وَ رَأْسَھَا وَاَخْدِمُھَا
فَقَالَتْ لِیْ یَا بُنَیَّ مَا کُنْتَ تَضَعُ بِیْ ہٰذَا وَاَنْتَ عَلٰی دَنِیْ فَمَا الَّذِیْ اَرٰی مِنْکَ مُنْذُھَا جَرَتْ فَدَخَلْتَ فِیْ الْحَنِیْفِیَّةِ
فَقُلْتُ رَجُلٌ مِنْ وَلَدٌ نَبِیِّنَا اَمَرَنِیْ بِھٰذَا
فَقَالَتْ ھٰذَا الرَّجُلُ ھُوَ نَبِیٌّ
فَقُلْتُ لااَا وَ ٰلکِنَّہ اِبْنُ نَبِیٍّ
فَقَالَتْ یَا بُنَیَّ اِنَّ ھٰذَا نَبِیٌّ اِنَّ ھٰذِہ وَصَایَا الْاَنْبِیَآءِ
فَقُلْتُ یَا اُمَّہُ اِنَّہ لَیْسَ یَکُوْنُ بَعْدَ نَبِیِّنَا نَبِیٌّ وَٰلکِنَّہ اِبْنُہ
فَقَالَتْ یَا بُنَیَّ دُیْنُکَ خَیْرُ دِیْنٍ اِعْرِضْہُ عَلَیَّ فَعَرَضْتُہ عَلَیْھَا فَدَخَلَتْ فِیْ الْاِسْلااَامِ وَ عَلَمْتُھَا فَصَلَّتِ الظُّھْرَ وَالْعَصْرَ وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاْءَ الْآخِرَةَ ثُمَّ عَرَضَ لَھَا عَارِضٌ فِیْ الَّیْلِ فَقَالَتْ یَا بُنَیَّ اَعِدْ عَلَیَّ مَا عَلَّمْتَنِیْ فَاَعَدْتَّہ عَلَیْھَا فَاَقَرَّتْ بِہ وَمَاتَتْ فَلَمَّا اَصْبَحَتْ کَانَ الْمُسْلِمُوْنَ الَّذِیْنَ غَسَّلُوْھَا وَکُنْتَ اَنَا الَّذِیْ صَلَّیْتُ عَلَیْھَا وَ نَزَلَتْ فِیْ قَبْرِہ۔
(اصول کافی جلد ۳ صفحہ ۲۳۳)
ترجمہ:۔
ثقة الاسلام شیخ محمد ابن یعقوب کلینی قدس سرہ نے اپنی سند کے ساتھ زکریا ابن ابراہیم سے روایت کی ہے زکریا کہتا ہے کہ میں نصرانی تھا جو مسلمان ہو گیا اور حج کیلئے گیا وہاں امام جعفر صادق-کی خدمت میں پہنچا اور عرض کیا کہ میں نصرانی سے مسلمان ہو گیا ہوں۔حضرت-نے فرمایا کہ اسلام میں تو نے کیا دیکھا ہے۔میں نے کہا خدا کا یہ قول
" مَا کُنْتَ تَدْرِیْ مَا الْکِتٰبُ وَ لااَا الْاِیْمَانُ وَ ٰلکِنْ جَعَلْنہُاٰا نُوْرًا نَّہْدِیْ بِہ مَنْ نَّشَآءُ "(سورہ شوریٰ آیت ۵۲)
(تو کیا جانتا تھا کہ کتاب کیا ہے اور نہ ایمان کو ہی جانتا تھا لیکن ہم نے اسے نور قرار دیا ہے اس شخص کے لئے جسے ہم ہدایت کرنا چاہیں)
ظا ہر اً اس آیت کو ذ کر کرنے سے اس کی مراد یہ تھی کہ حضر ت- کی خد مت میں عر ض کر ے کہ میر ے اسلام کا سبب کو ئی چیز نہیں تھی سوا ئے اس کے کہ اللہ تعا لیٰ مجھے ہدایت کرنا چاہتا تھا۔ حضرت- نے فرمایا کہ خدا نے تجھے ہدایت کی پھر تین مرتبہ اس کے حق میں فرمایا:
اللّٰھُمَ اھْدِہ
(خدایا اس کی ہدایت فرما)
اس کے بعد حضرت- نے فرمایا جو جی چاہے سوال کر۔
میں نے عرض کیا کہ میرے والدین اور گھر والے نصرانی ہیں اور میری ماں نابینا ہے میں انکے ساتھ رہتا ہوں انہیں کے برتنوں میں کھاتا ہوں
حضرت- نے فرمایا کیا وہ سور کا گوشت کھاتے ہیں؟
عرض کی نہ بلکہ سور کے گوشت کو ہاتھ بھی نہیں لگاتے۔
حضرت- نے فرمایاکہ ماں کی رعایت کر اور اس کے حق میں نیکی کر اور جب مرے تو اس کی میّت دوسروں کے حوالے نہ کرنا بلکہ خود اسے سنبھالنا اور اس ملاقات کے بارے میں کسی سے کچھ نہ کہنا اور منٰی میں مجھے دوبارہ ملنا اس وقت کسی کو نہ بتا نا کہ تو میرے پاس آیا ہے پس میں منٰی میں حضرت- کی خدمت میں حاضر ہو گیا ہے میں نے دیکھا کہ لوگوں نے حضرت-کے ارد گرد گھیرا ڈالا ہوا ہے جس طرح بچے استاد کے ارد گرد ہوتے ہیں ہر کوئی حضرت- سے سوال پوچھ رہا تھا پس جب میں کوفہ میں آیا تواپنی ماں کے ساتھ بہت نرمی کے ساتھ پیش آنے لگااور اس کی خدمت میں مصروف ہو گیا میں اسے کھانا کھلاتااور اس کے سر اور لباس کو صاف کرتا۔
میری ماں نے ایک دن مجھ سے کہا اے فرزند عزیز! جب تو میرے دین میں تھا تو اس طرح میری خدمت نہیں کرتا تھا۔کیا وجہ ہے کہ اسلام قبول کر لینے کے بعد میرا اتنا خیال رکھتا ہے؟
میں نے کہا کہ میرے پیغمبر(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)کے ایک فرزند نے مجھے اس طرح کرنے کا حکم دیا ہے۔
میری ماں نے کہا کیا وہ پیغمبر ہے۔
میں نے کہا نہیں بلکہ پیغمبر کے فرزند ہیں ۔
میری ماں نے کہا ایسے شخص کو پیغمبر ہونا چاہیے کیونکہ جو تعلیم اس نے تجھے دی ہے یہ تو پیغمبروں کی وصیت ہے۔
میں نے کہا: اماں جان ہمارے پیغمبر(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)کے بعد کوئی پیغمبر نہیں۔
میری ماں نے کہا: اے بیٹا تیرا دین تمام ادیان میں سب سے بہتر ہے یہ دین میرے سامنے پیش کر اور بیان کر۔
پس میں نے دین اسلام بیان کیااور میری ماں بھی اسلام میں داخل ہو گئی۔میں نے اسے دین کے آداب سکھائے۔پھر اس نے نماز ظہر و عصر اور مغرب وعشاء پڑھی۔اور اسی رات مرض المو ت اسے عارض ہوئی تو مجھے بلا کر کہنے لگی اے میرے بیٹے تو نے جو کچھ مجھے سکھایا ہے اسے دوبارہ میرے سامنے دہراوٴ۔میں نے وہ سب کچھ دہرایا اور ماں نے اس کا اقرار کیا اور وفات پا گئی۔جب صبح ہوئی تو مسلمانوں نے اسے غسل دیا اور میں نے اس کی نماز جنازہ پڑھی اور اس کو خود قبر میں رکھا۔
"نعم ما قیل"
(کسی نے کیا خوب کہا ہے۔)
آبادی میخانہ زویرانی ما است
جمعیت کفر از پریشانی ما است
اسلام بذات خود ندارد عیبی
ہر عیب کہ ہست در مسلمانی ما است
( ترجمہ اشعار)
شراب خانے کی آبادی ہماری ویرانی کی وجہ سے ہے۔کفر کی جمعیت اور تعداد میں روز افزوں اضافہ ہماری پریشان حالی اور دگر گونی کی وجہ سے ہے۔اسلام کی ذات میں کوئی عیب نہیں ہے جو بھی عیب ہے وہ ہماری مسلمانی میں ہے۔
avatar
chandni
Adv.Member
Adv.Member

Posts : 724 Points : 1045
Join date : 2010-02-28

Back to top Go down

View previous topic View next topic Back to top


 
Permissions in this forum:
You cannot reply to topics in this forum