Salam, Please Login to visit this forum.
Latest topics
» Me Nadia here ....
Tue Mar 15, 2011 12:44 am by love4life97

» Me Nadia here ....
Tue Mar 15, 2011 12:43 am by love4life97

» *~*Blending Eye Shadow*~*
Mon Mar 14, 2011 10:36 am by Humpakistani

» iam new here
Mon Mar 14, 2011 10:28 am by Humpakistani

» UMEED-E-SEHAR
Sat Nov 13, 2010 10:08 pm by love4life97

» (¯`·._...Increase the speed of your internet connection 450% without any software..._)
Sat Nov 06, 2010 9:53 am by love4life97

»  Is it persuasive?
Wed Oct 13, 2010 7:30 am by CharlesLewis

» India dominate Sri Lanka on way to final
Sun Sep 26, 2010 3:28 pm by love4life97

» HaPPy BiRtHdAy SaMeEr :D
Thu Sep 16, 2010 11:32 am by love4life97

» HAPPY BIRTHDAY TO OUR DEAREST ANNIE
Fri Jun 18, 2010 4:10 am by love4life97

October 2017
MonTueWedThuFriSatSun
      1
2345678
9101112131415
16171819202122
23242526272829
3031     

Calendar Calendar

Top posters
love4life97 (4231)
 
Black Beauty (3122)
 
shezada (1294)
 
red eyes (767)
 
chandni (724)
 
Admin (368)
 
Masakali (275)
 
janu (139)
 
a_shy_spy (44)
 
Decent Boy (8)
 

Social bookmarking

Social bookmarking Digg  Social bookmarking Delicious  Social bookmarking Reddit  Social bookmarking Stumbleupon  Social bookmarking Slashdot  Social bookmarking Yahoo  Social bookmarking Google  Social bookmarking Blinklist  Social bookmarking Blogmarks  Social bookmarking Technorati  

Bookmark and share the address of MASTI FORUM on your social bookmarking website

Bookmark and share the address of on your social bookmarking website


امام موسیٰ کاظم- کا معجزہ

View previous topic View next topic Go down

امام موسیٰ کاظم- کا معجزہ

Post by chandni on Sat Mar 13, 2010 11:47 am

عَنْ عَلِیِّ بْنِ یَقْطِیْنٍ قَالَ اِسْتَدْعَی الرَّشِیْدُ رُجُلااًا یُبْطِلُ بِہ اَمْرَ اَبِیْ الْحَسَنِ مُوْسٰی عَلَیْہِ السَّلااَامُ وَ یُخْجِلُہ مُعْزِمٌ۔

فَلَمَّا اُحْضِرَتِ الْمَائِدَةُ عَمِلَ نَامُوْسًا عَلَی الْخُبْزِ فَکَانَ کُلَّمَا رَامٍ اَبُوْ الْحَسَنِ عَلَیْہِ السَّلااَامُ رَغِیْفًا مِنَ الْخَبْزِ طَارَ مِنْ بَیْنِ یَدَیْہِ وَ اسْتَقَرَّ ھَارُوْنُ الْفَرْحُ وَ الضِّحْکُ لِذَالِکَ فَلَمْ یَلْبَثْ۔

اَبُوْ الْحَسَنِ عَلَیْہِ السَّلااَامُ اَنْ رَفَعَ رَاسَہ اِلٰی مُصَوِّرٍ عَلٰی بَعْضِ السُّتُوْرِ فَقَالَ لَہ یَا اَسَدَ اللّٰہِ خُذْ عَدُوَّ اللّٰہِ۔

فَوَثَبَتْ تِلْکَ الصُّوْرَةُ کَاَعْظَمِ مَا یَکُوْنُ مِنَ السَّبَاعِ فَافْتَرَسَتْ ذَالِکَ الْمُعْزِمَ فَخَرَّ ھَارُوْنُ وَ نُدَمَائُہ عَلٰی وُجُوْھِھِمْ مَغْشِیًّا عَلَیْھِمُ وَ طَارَتْ عُقُوْلُھُمْ خَوْفًا مِنْ حَوْلِ مَا رَاَوْہُ ۔

فَلَمَّا اَفَاقُوْا مِنْ ذَالِکَ بَعْدَ حِیْنٍ قَالَ ھَارُوْنُ اَبِیْ الْحَسَنِ عَلَیْہِ السَّلااَامُ اِسْئَلَکَ بِحَقِّیْ عَلَیْکَ لَمَّا سَأَلْتَ الصُّوْرَةَ اَنْ تَرُدَّ الرَّجُلَ۔

فَقَالَ اِنْ کُنْتَ عَصَا مُوْسٰی رَدَّتْ مَا اِبْتَلَعَتْہُ مِنْ حِبَالِ الْقَوْمِ وَ عَصِیْھِمْ فَاِنْ ھٰذِہِ الصُّوْرَةُ تَرُدُّ مَا اِبْتَلَعَتْہُ مِنْ ھٰذَا الرَّجُلِ۔

(مناقب شھر آشوب جلد ۴ صفحہ ۲۹۹،

القطرہ صفحہ ۲۲۲)

ترجمہ:۔

علی ابن یقطین کہتے ہیں کہ ہارون الرشید نے ایک جادو گر بلایا تاکہ امام موسیٰ کاظم-کی امامت کے مسئلے کو باطل کر دکھائے اور امام- کو اس مجمع میں شرمندہ کرے تو ایک جادوگر نے یہ قبول کرلی کہ میں ایسا کروں گا۔

جب دسترخوان اور کھانا لایا گیا تو اس نے مرد نے حیلہ گری اور جادو سے کام لیا حضرت- جب بھی روٹی کا لقمہ لینے کا ارادہ فرماتے تو وہ روٹی کا لقمہ لینے کا ارادہ فرماتے تو وہ روٹی حضرت- کے سامنے اڑجاتی (غائب ہو جاتی) ہارون اس بات سے خوش ہوا اور ہنسنے لگا اتنا خوش ہوا کہ اپنے آپ پر قابو نہ رکھ سکا اور ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہونے لگا۔

پس حضرت-نے فوراً اپنے سر کو شیر کی تصویر کی طرف بلندفرمایا جو اس مکان کے پردوں پر بنی ہوئی تھی اور فرمایا اے اللہ کے شیر اللہ کے دشمن کو پکڑ لے۔

پس وہ بہت بڑے شیر کی طرح جھپٹی اور اس جادوگر کو پھاڑ ڈالا۔ ہارون اور اس کے ساتھی اس عظیم امر کو دیکھ کربے ہوش ہو کر منہ کے بل گر پڑے اور اس کی ہولناکی کی وجہ سے ان کی عقلیں اڑ گئیں۔

جب کچھ دیر بعد ہوش میں آئے تو ہارون نے امام- کی خدمت میں عرض کی کہ میں آپ- سے درخواست کرتا ہوں اس حق کی وجہ سے جو میر اآپ کے ذمہ ہے کہ آپ-اس تصویر کو فرمائیں کہ وہ اس مرد کو واپس کردے۔

حضرت- نے فرمایا کہ اگر موسیٰ- کا عصا جادوگروں کی نگلی ہوئی رسیاں اور عصاء واپس کردیتا تو یہ بھی اس مرد کو واپس کرے گی۔

اس معجزے کے نقل کرنے والوں میں ایک شیخ بہائی بھی تھے جنہوں نے اس کو نقل کرنے کے بعد امام موسیٰ کا ظم-اور امام محمد تقی-کی شان میں تین شعر کہے ہیں ۔ جن کا مفہوم یہ ہے۔

اے زوراء (مکان) کی طرف جانے والے تو مغرب کی طرف اس سر سبز باغ کی طرف جا،جب تجھے دو گنبد نظر آئیں تو اپنے جوتے اتار دے اور خضوع کا سجدہ کر انہی گنبدوں کے نیچے موسیٰ- کی آگ اور محمد(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)کا نور ایک دوسرے کے سامنے ہیں۔
avatar
chandni
Adv.Member
Adv.Member

Posts : 724 Points : 1045
Join date : 2010-02-28

Back to top Go down

View previous topic View next topic Back to top


 
Permissions in this forum:
You cannot reply to topics in this forum