Salam, Please Login to visit this forum.
Latest topics
» Me Nadia here ....
Tue Mar 15, 2011 12:44 am by love4life97

» Me Nadia here ....
Tue Mar 15, 2011 12:43 am by love4life97

» *~*Blending Eye Shadow*~*
Mon Mar 14, 2011 10:36 am by Humpakistani

» iam new here
Mon Mar 14, 2011 10:28 am by Humpakistani

» UMEED-E-SEHAR
Sat Nov 13, 2010 10:08 pm by love4life97

» (¯`·._...Increase the speed of your internet connection 450% without any software..._)
Sat Nov 06, 2010 9:53 am by love4life97

»  Is it persuasive?
Wed Oct 13, 2010 7:30 am by CharlesLewis

» India dominate Sri Lanka on way to final
Sun Sep 26, 2010 3:28 pm by love4life97

» HaPPy BiRtHdAy SaMeEr :D
Thu Sep 16, 2010 11:32 am by love4life97

» HAPPY BIRTHDAY TO OUR DEAREST ANNIE
Fri Jun 18, 2010 4:10 am by love4life97

October 2017
MonTueWedThuFriSatSun
      1
2345678
9101112131415
16171819202122
23242526272829
3031     

Calendar Calendar

Top posters
love4life97 (4231)
 
Black Beauty (3122)
 
shezada (1294)
 
red eyes (767)
 
chandni (724)
 
Admin (368)
 
Masakali (275)
 
janu (139)
 
a_shy_spy (44)
 
Decent Boy (8)
 

Social bookmarking

Social bookmarking Digg  Social bookmarking Delicious  Social bookmarking Reddit  Social bookmarking Stumbleupon  Social bookmarking Slashdot  Social bookmarking Yahoo  Social bookmarking Google  Social bookmarking Blinklist  Social bookmarking Blogmarks  Social bookmarking Technorati  

Bookmark and share the address of MASTI FORUM on your social bookmarking website

Bookmark and share the address of on your social bookmarking website


وعدہ خلافی

View previous topic View next topic Go down

وعدہ خلافی

Post by chandni on Sun Mar 21, 2010 6:49 pm

وَالَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَھْداللّٰہِ مِنْ بَعْدِ میْثاقِہ و۔یَقْطَعُوْنَ مَآاَمَرَاللّٰہُ بِہٓ اَنْ یُوصَلَ وَیُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ اُولیٰٓکَ لَھُمْ اللّٰعْنَةُ وَلَھُمْ سُوْآءُ الدَّارِ (سورئہ رعد ۱۳: آیت ۲۵) " اور جو لوگ خدا سے عہد ِ وپیمان کو پکا کرنے کے بعد توڑڈالتے ہیں اور جن (تعلقاتِ باہمی ) کے قائم رکھنے کا خدا نے حکم دیا ہے انہیں قطع کرتے ہیں اور روئے زمین پر فساد پھیلاتے پھرتے ہیں ایسے ہی لوگ ہیں جن کے لئے لعنت ہے۔ اور ایسے لوگوں کے واسطے برا گھر (جہنّم ) ہے۔"
وعدہ خلافی اور عہد شکنی کی مذمت میں سورئہ آل ِعمران میں ارشاد ہوا: بَلٰی مَنْ اَوْفٰی بِعَھْدِہ وَا تَّقٰی فَاِنَّ اللّٰہِ یُحِبُّ الْمُتَّقِیْنَ، اِنَّ الَّذِیْنَ یَشْتَرُوْنَ بِعَھْدِ اللّٰہِ وَاَیْمَا نِھِمْ ثَمَنًا قَلِیْلًا اُولٰٓئِکَ لَاخَلاَقَ لَھُمْ فِیْ الْاٰخِرَةِ وَلَایُکَلِّمُھُمْ اللّٰہُ وَلَا یَنْظُرُ اِلَیْھِمْ یَوْمُ الْقِیٰامَةِ وَلَا یُزَ کِّیھِمْ وَلَھُمْ عَذَابُ اَلِیْمُ (سورئہ آلِ عمران ۳: آیت ۷۶۔۷۷) "یعنی ہاں (البتّہ ) جو شخص اپنے عہد کو پورا کرے اور پرہیز گاری اختیار کرے تو بے شک خدا پرہیزگاروں کو دوست رکھتا ہے ۔ بے شک جو لوگ اپنے عہداور (قسم ) اقسام جو خدا سے کیا تھا اس کے بدلے تھوڑا سا دنیوی معاوضہ لے لیتے ہیں ان ہیلوگوں کیواسطے آخرت میں کچھ حصّہ نہیں اور قیامت کے دن خدا ان سے بات تک تو کرے گا نہیں، اور نہ ان کی طرف نظر (رحمت ) کرے گا، اور نہ ان کو (گناہوں کی گندگی سے ) پاک کرے گا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔"
ایک اورجگہ ارشاد ہے:
اِنَّ شَرَّالدَّوَآبِّ عِنْدَاللّٰہِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا فَھُْمْ لَا یُوٴْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ عَاھَدْتَّ مِنْھُمْ ثُمَّ یَنْفَقُضُوْنَ عَھْدَھُمْ فِیْ کُلَّ مَرَّةٍ وَّ ھُمْ لَا یَتَّقُوْنَ (سورئہ انفال ۸ :آیت ۵۵۔۵۶) " بیشک خدا کے نزدیک جانوروں میں کفار سب سے بدترین ہیں ۔ یہ لوگ ایسے ہیں کہ ایمان نہیں لاتے (اے رسول) جن لوگوں نے تم سے عہدو پیماں کیا تھا پھر وہ لوگ اپنے عہدوپیماں کو ہر بار توڑ دیتے ہیں اور پھرخدا سے نہیں ڈرتے ۔
یہ آیت شریفہ بنی قریظہ کے اُن یہودوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے جنہوں نے رسولِ خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) سے عہد کیا تھاکہ وہ دشمنانِ اسلام کا ساتھ نہیں دیں گے۔ لیکن جنگِ بدر میں انھوں نے مشرکین کو اسلحہ کی کمک دے کر یہ عہد و پیمان توڑدیا تھا بعد میں رسولِ سے کہا تھا کہ ہم یہ عہدوپیمان بُھول گئے تھے۔ دوبارہ انہوں نے رسول خدا سے ایسا ہی عہد کیا تھا لیکن جنگ خندق میں ایک بار پھر انھوں نے اسے توڑدیا اور پیغمبرِاسلام کے خلاف جنگ کرنے کے لئے ابوسفیان سے مل گئے۔
قرآنِ مجید میں چند مقامات پر وعدے کی پاسداری کو واجب قراردیا گیاہے اور اس پر تاکید فرماگئی ہے۔مثلًاارشاد ہے کہ : وَاَوْفُوْ بِا لْعَھْدِ اِنَّ الْعَھْدَکَانَ مَسْوٴُلًا سورہ بنی اسرائیل آیت ۳۴وعدہ کی وفا ضرور کرو اس لئے کہ وعدہ کے بارے میں ضرور سوال کیا جائے گا ایک اور جگہ پر ارشاد ہے ۔یَا اَیُّھَاالّذیْنَ اٰمَنُوْا اَوْفُوْابالْعَقُوْد (سورئہ مائدہ ۵: آیت ۱) " اے ایمان لانے والو! اپنے وعدوں کو پورا کیا کرو۔" اور سچّے اور متقی لوگوں کی تعریف میں ارشاد ہے (وَالمُوْفُوْنَ بِعَھْدِھِمْ اِنَا عَا ھَدُوْا (سورئہ بقرہ ۳: آیت ۱۷۷) "اور یہ وہ لوگ ہیں جو جب بھی وعدہ کرتے ہیں تو اسے ضرور پورا کرتے ہیں۔
سورئہ صف میں کچھ اس طرح سخت انداز میں ارشاد: یَااَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْ الِمُ تَقُوْلُوْنَ مَا لَا تَفْعَلُوْنَ کَبُرَ مَقْتًا عِنَدْاللّٰہِ اَنْ تَقُوْلُوْامَالَا تَفْعَلُوْنَ (سورئہ صف ۶۱: آیت۲۔۳) "اے ایمان لانے والو! تم ایسی بایں کیوں کہاکرتے ہو جن کے کرنے کا تمہیں ارادہ نہیں ہوتا ۔ خدا کے نزدیک یہ بڑے غضب کی با ت ہے کہ تم ایسی بات کہو جس پر عمل نہ کرو!"
اس آیت شریفہ کی تفسیر میں حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی ہے کہ: عِدَةُ الْمُوٴْمِنِ اَخاَہُ نَذْرُ لَہُ فَمَنْ اَخْلَفَ فبِخُلْفِ اللّٰہِ بَدَءَ وَلِمُقْتِہ تَعَرَّضَ(وسائل الشیعہ ، کتاب ِحج، باب ۱۰۹ صفحہ ۲۲۲) "مومن اپنے مومن بھائی سے وعدہ ایک ایسی نذر ہے جس کا کوئی کفارہ تو نہیں ہے لیکن جو شخص وعدہ خلافی کرتاہے وہ خدا کی مخالفت اور دشمنی آغاز کردیتا ہے اور خدا کے غضب کو چھیڑ بیٹھاتا ہے!" اس کے بعد امام علیہ السَّلام نے سورئہ صف کی مندرجہ بالا آیت تلاوت فرمائی تھی۔
امیر المومنین حضرت علی علیہ السَّلام مالکِ اشتر سے ان کے عہدے کا حلف لیتے ہوئے فرماتے ہیں: اَلْخُلْفُ یُوْجِبُ الْمَقْتَ عِنْدَ اللّٰہِ(نہج البلاغہ)
یعنی "وعدہ خلافی خدا کے غضب کا باعث بن جاتی ہے۔" اس کے بعد امیرالمومنین علیہ السَّلام نے بھی اسی آیت کا حوالہ دیا تھا۔
حضرت امام محمد باقر علیہ السَّلام فرماتے ہیں (عَنْ اَبِْی جَعْفَرٍ قَالَ اَرْبَعَةُ اَسْرَعُ شَیْیٴً عُقُوْبَةً "چا ر قسم کے لوگ ایسے ہیں جن پر جلد عذاب نازل ہوتا ہے:
(۱) رَجُلُ اَحْسَنْتَ اِلَیْہِ وَیُکافِئُکَ بِالْاِحْسَانِ اِلَیْہِ اِسَائُہ یعنی "ایسا شخص جس کے ساتھ تم نے کسی سلسلے میں معاہدہ کیا ہواور تم اس سلسلے میں اُس سے وفا کررہے ہو لیکن وہ تم سے بے وفائی کررہاہو، تمہاری نیکی کے بدلے میں اس نے تم سے بدی کی ہو۔"
(۲) وَرَجُلُ تَبْغِیْ عَلَیْہِ وَھُوَ یَبْغِیْ عَلَیْکَ یعنی"ایسا شخص جس پر تم کوئی ظلم نہیں کرتے (اگرچہ ) اس کے ساتھ کوئی نیکی بھی نہ کرتے ہو) مگر وہ تم پر ظلم کرتا ہو۔
(۳) وَرَجُلُ عَاھَدْتَّہ عَلٰی اَمْرٍ فَمِنْ اَمْرِکَ الْوَفاءُ بِہ وَمِنْ اَمْرِہِ الْغَدْرُبِکَ یعنی "ایسا شخص جس کے ساتھ تم نے کسی سلسلے میں معاہدہ کیا ہواور تم اس سلسلے میں اس سے وفاکر رہے ہو، لیکن وہ تم سے بے وفائی کرہا ہو۔"
(۴) وَرَجُلُ یَصِلُ قَرٰابَتَہ ویَقْطَعُوْنُہ (کتاب "خصال")
یعنی "اور ایسا شخص جو اپنے رشتہ دار سے صلہ رحمی برقرار رکھنا چاہتا ہے مگرہ قطع رحمی کرتا ہو۔
عَن اَبی مَالِکٍ قَالَ قُلْتُ لَعَلِیِّ بْنِ الْحُسیْنِ حضرت امام زین العابدین علیہ السَّلام سے ابو مالک نے کہا: اَخْبِرْنِیْ بِجِمِیْعِ شَرَایِعِ الدِّیْنِ "مجھے آپ دینِ اسلام کی تمام شرعی باتوں کا خلاصہ بتادیجئے ۔"قَالَ قَوْلُ الْحَقِّ وَالْحُکْمُ بِالْعَدْلِ وَالْوَفَاءُ بِالْعَھْدِ(کتاب "خصال ") امام علیہ السَّلام نے فرمایا " حق بات کہنا ، انصاف کے ساتھ فیصلہ کرنا ، اور وعدے کو پورا کرنا۔"
ٍ وعدہ وفائی کی اہمیت کے سلسلے میں اگرچہ آیا ت وروایات بہت وارد ہوئی ہیں لیکن ہم اسی مقدار پرا کتفا کررہے ہیں۔

وَعدہ خَلافی کی قسمیں

وعدے کی تین قسمیں ہیں:
(۱) ایک ایسا وعدہ جو خدا نے اپنے بندوں سے کیا ہو ۔
(۲) ایک ایسا وعدہ جو بندوں نے خدا سے کیا ہو۔
(۳) اور ایک ایسا وعدہ جو بندوں نے ایک دوسرے سے کیا ہو۔
وہ وعدہ جو خدا نے بندوں سے کیا ہے وہ وہی ہے جو عالمِ ذر (عالمِ اروا ح) میں واقع ہوا ہے۔ قرآنِ مجید اور بہت سی روایتوں سے اس وعدے کے بارے میں علم ہوتا ہے۔ اُس وعدے کا خلاصہ یہ ہے کہ عالمِ ارواح میں دنیا میں انسانوں کو بھیجنے سے پہلے خدا نے تمام روحوں سے عہدوپیمان کیاہے، اوور وہ یہ ہے کہ اگر وہ دنیا میں ثابت قدم رہیں گئے، کسی کو خدا کا شریک قرار نہ دیں گے، اپنے پیغمبر کے احکام سے روگردانی نہیں کریں گے اور شیطان کی پیروی نہیں کریں گے تو خدا اس وعدہ وفائی کے صلے میں ان کی کی مدد کرے گا، اپنی رحمت کا سایہ ہر وقت ان پر رکھے گا۔ اور جنّت میں انہیں جگہ دے گا۔
لیکن اگر وہ اپنے وعدے کو پورا نہیں کریں گے تو خدا کبھی اس کے عوض میں اپنے وعدے کو پورا نہیں کرے گا ۔ اسی لئے ارشاد ہے:اَوْفُوْ ا بِعَھْدِیْ اُوْفِ بِعَھْدِکُمْ(سورئہ بقرہ ۲ :آیت ۴۰) (اے میرے بندو!) مُجھ سے کیا ہوا وعدہ وفا کرو ۔ اگر تم ایسا کرو گے تو میں بھی تم سے کیا ہوا وعدہ وفا کروں گا۔ " یہ بھی ارشاد ہے کہ :اَلَمْ اَعْھَدَ اِلْیْکُمْ یَابَنِیْ اٰدَمَ اَنْ لَّا تَعْبُدُو الشَّیْطَان (سورئہ یٰسین ۳۶ : آیت ۶۰) "اے آدم علیہ السَّلام کی اولاد کیا میں نے تم سے یہ وعدہ نہیں لیا تا کی خبردار شیطان کی پرستش نہ کرنا ؟!"
عالَم ارواح میں پروردگارِعالم نے بندوں کی روحوں سے جو وعدے لئے تھے ان می امیرالمومنین اور اَئمہ طاہرین کی ولایت کے بارے میں بھی وعدے شامل تھے۔ بہت سی روایتوں میں اس بات کا ذکر موجودہے۔ یہاں تک کہ تمام آسمانی کتابوں میں اس کاذکر ہے اور تمام انبیاء کے ذریعے بھی چہاردہ معصومین کی ولایت ومحبت کا پیغام پہنچایا گیاہے۔
البتہ بعض علماء نے عالم ذر یا عالم ارواح کا انکار کیا ہے۔ وہ اس موضوع پروار دہونے والی آیتوں اور روایتوں کی تاویل فرماتے ہیں۔ وہ حاکم ذرسے مراد عَالَم فطرت لیتے ہیں ۔ یعنی ان کے نزدیک خدا وندِ تعالیٰ نے فطری طور پر انسان کو اس بات کاپابند بنایا ہے کہ وہ احکامِ خدا کی پابندی کرے اور شیطان کی پرستش نہ کرے۔ اب اگر انسان مخالفت کرتا ہے تو اپنی فطرت کے خلاف کام کرتا ہے ۔ البتّہ انسان کی عقل اس کو فطرت پر چلنے اور اپنے خالق کی اطاعت کرنے کا حکم دیتی ہے۔ وہ علمائے کرام اسی حکم کو عہدو پیان شمار کرتے ہیں ۔ بہرحال حقیقت کیا ہے، اس کی تفصیل کے لئے یہ کتاب مناسب نہیں ہے۔
بہرحال خواہ آدمی عالمِ ارواح میں کئے گئے وعدے کو توڑے، یا عالمِ فطرت میں کئے ہوئے وعدے کی خلاف ورزی کرے ، دونوں صورتوں میں وعدہ توڑنا بہرحال گناہِ کبیرہ ہے۔ بلکہ سب سے بڑا گناہِ کبیرہ ہے۔ اکثر آیات وروایات میں اتنی تاکید موجود ہے کہ وعدہ وفا کرنا واجب اور وعدہ توڑنا حرام ثابت ہوتا ہے۔ وعدہ توڑنے پر سخت عذاب کی باتیں بھی وارد ہوئی ہیں۔ اورروایا ت سے معلوم ہوتاہے کہ اتنا سخت عذاب اسی پہلی قسم کے وعدے کو توڑنے میں ہے اور یہی سب سے بڑا گناہِ کبیرہ ہے۔ پس بندوں کو چاہیئے کہ اپنے پروردگار سے کئے گئے تمام وعدوں کی وفا کریں تاکہ خدا بھی اس کے صلے میں اپنے تمام وعدے وفا کرے۔
خداوندِ عالم نے دُعا قبول کرنے کا وعدہ کیا ہے
خدا نے بندوں سے جو وعدے کیئے ہیں ان میں سے ایک دعا قبول کرنے کا وعدہ بھی ہے، لیکن اس وعدے کو پورا کرنے کی ایک شرط بھی ہے، اور وہ شرط یہ ہے کہ بندے خدا سے کیا ہوا اپنا وعدہ وفا کریں۔


حضرت امام جعفر صادق علیہ السَّلام سے جمیل روایت کرتے ہیں (عَن اَبِیْ عَبْدِ اللهِ) اَنَّ الْعَبْدَاِذَا دَعَا اللّٰہَ تَعَالٰی بِنِیَّةٍ صَادِقَةٍ وَقَلْبٍ مُخِلصٍ اُسْتُجِیْبُ لَہ بَعْدَ وَفَائِہِ بِعََھْدِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ "جب بندہ خدا سے سچّی نیّت اور خلوص بھرے دِل کے ساتھ دُعا مانگتا ہے تو اس کی دُعا اس وقت قبول ہوتی ہے جب وہ خدا ئے عِزّوجل سے کئے ہوئے اپنے وعدے کو پورا کرلیتا ہے۔ " وَاِذَادَعَا اللّٰہَ بِغَیْرِ نَیَّةٍ وُّ اِخْلَا صٍ لَمْ یُسْتَجَِبُ لَہ۔ "لیکن جب بندہ خدا سے سچّی نیت اورخلوص کے بغیر دُعا کرتا ہے تو اس کی دُعا قبول نہیں ہوتی۔") اَلَیْسَ اللّٰہُ یَقُوْلُ اَوْفُوْا بِعَھْدِیْ اُوْفِ بِعَھْدِکُمْ ، فَمَنْ وَفٰی وُفِیَ لَہ (سفینہ البحار جلد اوّل صفحہ ۴۹۹) "کیا خدائے تعالیٰ نہیں فرماتا " اَوْفُوْا بِعَھْدِیْ اُوْفِ بِعَھدِکُمْ" (مجھ سے کیا ہوا وعدہ پورا کرو تو میں تم سے کیا ہوا وعدہ پورا کروں گا )پس جو وعدہ وفا کرتا ہے اسی کے ساتھ وفا کی جاتی ہے۔"
نذر اور عہد میں زبان سے کہنا
دوسری قسم کا وعدہ وہ ہے جو بندہ خودہی خدائے تعالیٰ سے کرتا ہے مثلاًنذر کرلیتا ہے یا قسم کھالیتا ہے ۔ قسم ، عہد یا نذر کا محض دل ودماغ میں عزم کرلینا اور سوچ لینا کافی نہیں ہے بلکہ باقاعدہ اس کا جملہ زبان سے ادا کرنا پڑتا ہے۔ مثلًا اگر کوئی بندہ خدا سے عہد کرنا چاہے اور عربی میں کہنا چاہے تو اسے کہنا پڑے گا عَاھَدْتُ اللّٰہَ (میں نے خدا سے عہد کیا ) یا یہ کہنا ہوگا کہ عَلَّی عَبْدُ اللّٰہِ (میرے ذمّے خدا سے کیا ہوا عہد ہے۔ )عربی کے علاوہ کسی بھی زبان میں نذر، قسم ، یا عہد کا جملہ کہا جاسکتا ہے۔ مثلًا یہ نذر مانی جاسکتی ہے کہ اگر میں صحت یاب ہو گیا ،یا سفر سے صحیح و سالم واپس آگیا تو اتنی رقم خدا کے لے خیرات کروں گا ۔ ایسا جملہ منہ سے کہنے سے اس کی پابندی واجب ہوتی ہے، اور محض دِل میں سوچ لینے سے واجب نہیں ہوتی۔
avatar
chandni
Adv.Member
Adv.Member

Posts : 724 Points : 1045
Join date : 2010-02-28

Back to top Go down

View previous topic View next topic Back to top


 
Permissions in this forum:
You cannot reply to topics in this forum